قلب مؤمن
ڈرائنگ روم کی دیکھ بھال صفائی ستھرائی اور سجاوٹ سب کے لیے اہمیت کا حامل ہوتی ہے جو لوگ باقی گھر کی صفائی کی طرف بہت زیادہ توجہ نہ بھی دے سکیں وہ بھی ڈرائنگ روم سے لاپرواہی نہیں برتے
یہ اہتمام خود بخود ذہن بناتا ہے کہ باقی گھر بھی پرسکون اور صاف ہونا چاہئیے۔ لہذا جو اطمنان ڈرائنگ روم میں ملتا ہے وہ باقی گھر میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی ہی مرکزی حیثیت ہمارے جسم میں دل کی بھی ہے۔
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
(ألا وإن فی الجسد مضغۃ إذا صلحت صلح الجسد کلہ وإذا فسدت فسد الجسد کلہ ألا وھی القلب)
یعنی:خبردار!انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوجائےگا، اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔ خبردار! وہ انسان کادل ہے۔
(بخاری:۵۲،مسلم:۴۰۹۴)
قلب کفر سے بھرا ہوا بھی ہو سکتا ہے(العياذ بالله)، فسق سے بھرا ہوا بھی ہو سکتا ہے، اس میں نفاق بھی جگہ لے سکتا ہے اور یہی دل ایمان سے بھرا ہوا بھی ہو سکتا ہے گویا ایک برتن ہے جس کو آپ جیسے چاہیں اور جس چیز سے چاہیں بھر دیں۔
اور ایک برتن میں ایک وقت میں ایک چیز ہی ڈالی جاسکتی ہے۔ اگر دوسری چیز اسی میں ڈالنے کی کوشش کی جائے تو دونوں چیزیں اپنا اپنا ذائقہ کھو دیتی ہیں۔
مومن کا دل جب ایمان سے بھر جائے تو اس سے روحانیت جھلکتی ہے، ایسا روحانی دل پورے بدن کو ایسا کیف وسروراور اطمنان دیتا ہے کہ پھر برائی، خود ہی بری لگنے لگتی ہے۔
اگر قلب مومن روحانیت سے بھرا ہوا نہ ہو اور ایمان کے ساتھ ساتھ عمل کی برائی اور منفی سوچ کا فساد اسکو سیاہ بھی کرتا رہے تو ہمارا دل ایمانی نور اور عمل کی سیاہی کا ایسا عجیب غریب مجموعہ بن جاتا ہے کہ بندہ خود پریشان ہو جاتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے کیا کرنا چاہیے۔
ایسے دل کو قلب مریض کہتے ہیں۔ جیسے مریض سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ مجھے بیماری کیسے ہو گئی اور سب کیسے اس کو ختم کروں ایسے ہی قلب مریض رکھنے والا خود سے ہی جنگ کرتا رہتا ہے۔
ایمان کی قوت عار بھی دلاتی رہتی ہے اورفاسد اعمال کی عادت نیکی کرنے بھی نہیں دیتی۔ اسکا حل صرف یہ ہے کسی جیسے مریض کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی خود اعتمادی اور پرہیز سے ہی بہتر کو سکتے ہیں۔
ایسے ہی قلب مریض اپنی کوشش سے اور بڑے اعمال کو آہستہ آہستہ مگر مسلسل چھوڑتے رہنے سے ہی صحیح ہو سکتا ہے۔
ہمیں بطور مومن یہ سوچنا ہے کہ ہمارا دل پاگل اور بد تمیز نہیں ہو سکتا کیونکہ پاگل سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے اور یہ قلب کافر کی صفت ہے۔ بد تمیز دل اسکا ہو سکتا ہے جو صحیح اور غلط میں تمیز نہ کر سکے۔ یہ صفت قلب منافق کی ہے۔
مومن کا دل صرف مریض ہو سکتا ہے۔ کوشش اور ہمت کرنے سے مریض بالکل تندرست ہو سکتا ہے۔ اور جب دل ٹھیک ہو جائے تو آپ نہ صرف سکون حاصل کریں گے بلکہ سکون تقسیم کرنے والے بن جائیں گے۔
ہماری نگاہ
اپنے والدین کے دنیا سے جانے کے بعد اپنی پروفائل پر، اپنے سکرین سیور پر ان کی تصویر اس لیے لگائی جاتی ہے کہ دل پر سکون رہے۔ تصویر پر نظر پڑے گی تو یاد آئے گی، اور جب یاد آئے گی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ نگاہیں جو کچھ دیکھتی ہیں، اس کا اثر دل پر فوراً ہوتا ہے۔ اگر اچھا دیکھیں تو دل میں خوشی محسوس ہوتی ہے، اور اگر نگاہیں کسی ناپسندیدہ منظر کو دیکھ لیں تو دل غمگین اور بوجھل ہو جاتا ہے۔
معلوم ہوا کہ نگاہ بذات خود کمال رکھتی ہے، اور اس کا کمال یہی ہے کہ دل سمیت تمام أعضاء بدن نگاہ کے اشارے پر چلتے ہیں۔ لہذا یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کہیں ہمارے دل کی بے چینی، بے سکونی، نماز میں دل نہ لگنا، سجدوں کی لذتیں نصیب نہ ہونا نگاہوں کے غلط استعمال کے سبب تو نہیں؟
آپ نے کبھی غور کیا کہ اگر آپ راستے میں سفر کر رہے ہوں اور مسلسل سائن بورڈز پڑھتے چلے جائیں، ادھر ادھر دیکھتے چلے جائیں، تو اگرچہ آپ صرف بیٹھے ہوئے تھے، لیکن اپنی منزل تک پہنچنے پر آپ کا ذہن تھک چکا ہوتا ہے۔
لیکن اگر آپ دورانِ سفر سو گئے، آپ کی آنکھیں بند رہیں اور آپ نے مناظر کو نہ دیکھا، تو آپ منزل مقصود تک پہنچنے پر اپنے آپ کو ہشاش بشاش محسوس کرتے ہیں۔
جی ہاں۔۔۔۔ یہ اسی لیے ہے کہ آپکی نگاہوں نے آپکو نہیں تھکایا۔ لہذا آپ کا دل پر سکون اور راحت محسوس کر رہا ہے۔
اگر آپ کو بھی سکون چاہیے اور عبادتوں کی لذتیں اور حلاوتیں اس پرفتن دور میں بھی محسوس کرنا چاہتے ہیں، تو اپنی نگاہ کی حفاظت کیجیے۔ آپ کی یہ حفاظت تقویت ایمان کی ضامن بن جائےگی۔
ہماری نیت
ہر انسان موت تک پر امید ہوتا ہے۔ کبھی ضروریات کی، اور کبھی خواہشات کی تکمیل کے لیے مشکل اہداف اور مصائب برداشت کرتا ہے، لیکن اپنی مراد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر ان امیدوں کا رخ درست سمت میں ہو تو صرف کوشش بھی ابدی سعادت بن جاتی ہے، چاہے مقصود بظاہر حاصل نہ ہو۔ اور اگر سمت درست نہیں تو ساری کوشش فقط ظاہری کامیابی تک ہی پہنچ سکتی ہے۔
سمت کی درستگی کے لیے اچھی اور نیک نیت ضروری ہے۔ گویا نیت نیک ہے تو امید مثبت ہے، اور امید مثبت ہے تو فکر نہ کریں۔ آپ سفر کے اختتام پر خالی نہیں ہوں گے۔
یا تو جو چاہیں گے مل جائے گا، یا پھر نیک نیت اور اچھائی کی کوشش پر رضائے الہی حاصل ہو جائے گی۔ لہذا اپنی نیتوں کو خالص رکھیں، اپنی جستجو درست سمت میں کریں، اور کرتے رہیں۔
آپ کا رب آپ کو نامراد نہیں کرے گا۔ سفر تھکا دیتا ہے، لیکن نیتیں اور کوشش ہر بار سہارا دیتی ہیں۔ ذہنی صلاحیتیں اکتانے لگتی ہیں تو نیتیں اور اہداف یاد آتے ہی پھر سے تازگی مل جاتی ہے۔
کامیابی یہی ہے کہ اختتام پر دامن میں ابدی سعادت کے پھول ہوں۔ اور یاد رکھیں، پھول یوں ہی حاصل نہیں ہوتے، اور اگر ہو بھی جائیں تو انہیں زندہ رکھنے کی امید کے لیے کوشش اور محنت تو کرنی ہی پڑتی ہے۔
ذکر اللہ اور ہم
کسی نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے تسبیح پکڑنا چھوڑ دی ہے۔ کچھ دکھاوا سا محسوس ہوتا تھا۔ اور ویسے بھی اللہ تو ان گنت نعمتیں دیتا ہے اور میں ناپ ناپ کر اور گن گن کر تسبیح پڑھتے ہوئے حیا کرتی تھی۔
بات تو اپنی جگہ سو فیصد درست لگی۔ اور میں نے بھی تسبیح پڑھنا چھوڑ دی۔ اور انگلیوں پر گننا بھی صحیح نہ لگا تو یونہی ذکر کرنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی عرصے میں یہ مشاہدہ سامنے آیا۔
ایک دو منٹ ذکر کرتی، اسکے بعد کسی نہ کسی کام میں لگ کر زبان رک جاتی اور ذہن کہیں اور لگ جاتا۔ ایسا بھی ہوا کہ پورا دن گزرنے کے بعد معلوم ہوتا کہ کچھ بھی ذکر نہ ہو سکا۔
دوسرا یہ کہ جب سے تسبیح پکڑنا چھوڑ دیا تو وہ سارا وقت موبائیل پر گزرا۔ کیونکہ ہاتھ کسی نہ کسی کام کے عادی ہوتے ہیں۔
تب مجھے احساس ہوا کہ چند دونوں کی تسبیح میرے لئے کتنی اہم تھی۔ ذکر کی بدولت بہت برکت ہوتی تھی، گن کر ہی صحیح مگر خوشی ہوتی تھی کہ ایک مخصوص تعداد میں ذکر میرا معمول بنا ہوا تھا۔ اگر وہ دکھاوا بھی ہے تو بھی وہ بہت سے لوگوں کے لئے اس طرف رہنمائی کر رہا ہے کہ ہاتھ میں رکھنے کے لئے صرف موبائیل ہی نہیں ہے۔
یہ سوچ کر میں نے اپنی تسبیح کو اٹھایا اور اسی پر پڑھنا شروع کیا۔ اللہ پاک نے دل کو سکون بھی بخشا ، خوشی بھی ملی کہ کچھ مخصوص تعداد ذکر جمع ہونے لگی۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا،
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا !

